Showing posts with label Saghar Siddiqui. Show all posts
Showing posts with label Saghar Siddiqui. Show all posts

Saturday, September 25, 2010

Baat Phoolon ki

بات پھولوں کی سنا کرتے تھے
ہم کبھی شعر کہا کرتے تھے

مشعلیں لے کے تمہارے غم کی
ہم اندھیروں میں چلا کرتے تھے

اب کہاں ایسی طبیعت والے
چوٹ کھا کر جو دعا کرتے تھے

ترک احساس محبت مشکل
ہاں مگر اھل وفا کرتے تھے

بکھری بکھری ہوئی زلفوں والے
قافلے روک لیا کرتے تھے

آج گلشن میں شگوفے ساغر
شکوہ باد صبا کرتے تھے

Zakhm e Dil

زخم دل پربہار دیکھا ھے
کیا عجب لا لہ زار دیکھا ھے

جن کے دامن میں کچھہ نہیں ہوتا
ان کے سینوں میں پیار دیکھا ھے

خاک اڑتی ھے تیری گلیوں میں
زندگی کا وقار دیکھا ھے

تشنگی ھے صدف کے ہونٹوں پر
گل کا سینہ فگار دیکھا ھے

ساقیا اہتمام بادہ کر
وقت کو سوگوار دیکھا ھے

جزبہ غم کی خیر ہو ساغر
حسرتوں پر نکھار دیکھا ھے